19 مئی 2012 - 19:30

پریس ذرائع کے مطابق مصر کے عبوری وزیراعظم کمال الجنزوری نے اچانک برطانیہ کا دورہ کیا ہے اور یہ دورہ ایسے وقت میں انجام پایا ہے کہ آئندہ چار دنوں میں مصر میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں .

ابنا: جبکہ بیرون ملک مقیم مصریوں کے صدارتی انتخابات کے نتائج سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اسلام نواز امیدوار دیگر صدارتی امیدواروں سے کہیں زیادہ سبقت لئے ہوئے ہیں ۔ اور اس بات کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ آئندہ 23 اور 24 مئي کو ہونے والے صدارتی انتخابات کا نتیجہ بھی ایسا ہی کچھہ رہے گا۔۔اس حقیقت اور موجودہ صورت حال کے باوجود مصر کے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے اور انتخابات کا نتیجہ امریکی منظور نظر امیدوار کے حق میں تبدیل کرنے کیلئے بعض اندرون ملک دھڑوں اور علاقے کے عرب نیز مغربی ملکوں کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ مصر کے صدارتی انتخابات کی اہمیت کے پیش نظر سیاسی حلقے، مصر کی مسلح افواج کی اعلی کونسل کی جانب سے مقرّر کردہ عبوری وزیراعظم کمال الجنزوری کے اچانک برطانیہ کے دورے کو مصر کے صدارتی انتخابات اور اس ملک کے مستقبل سے غیر مربوط نہیں سمجھتے۔ خاصطور سے اسلئے کہ اس فوجی کونسل پر اقتدار چھوڑنے اور اختیارات منتخب عوامی حکومت کو منتقل کرنے کیلئے شدید دباؤ ہے اور اسلئے بھی کہ الجنزوری حکومت بھی حال ہی میں تحلیل کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ اگرچہ مصر کی پارلیمنٹ نے تین روز قبل الجنزوری کی حکومت کو آئندہ جون کے مہینے تک امور مملکت چلانے کی اجازت دیدی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اقتدار میں باقی رہنے کیلئے اس حکومت کے پاس اب کوئی زيادہ وقت نہیں رہ گیا ہے اور صدارتی انتخابات کے بعد طنطاوی کی زیر قیادت اعلی فوجی کونسل اور الجنزوری کی حکومت کو اقتدار سے علیحدہ ہونا ہی پڑیگا اور یہ بات مصر کے موجودہ حکمراں بھی بخوبی جانتے ہیں لہذا یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ الجنزوری کا یہ دورہ، انتخابات کے بعد کی صورت حال کے بارے میں برطانوی حکام سے صلاح و مشورے کے لئے انجام پایا ہے ۔ مصر کے فوجی حکمراں یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے معزول صدر حسنی مبارک کے دور کی مانند مصر کے نئے سیاسی نظام میں بھی اپنے ملک کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے باقی رہیں اور اس میں دو رائے نہیں کہ اگر مصر کے صدارتی انتخابات میں کوئي ایسا امیدوار کامیاب ہوجاتا ہے جو فوجیوں کے مقابلے میں عوامی مطالبات پر زیادہ توجہ دے تو یہ عمل در حقیقت ان افراد کے درکنار ہونے کے مترادف ہوگا کہ جنھوں نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک مصر کی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھہ میں رکھی اور امریکہ و صیہونی حکومت کے سلسلے میں حسنی مبارک کی پالیسیاں ہی جاری رکھنے کی کوشش بھی کی ۔ جبکہ مصر کے عوام اسرائیل کے ساتھہ تعلقات ختم اور کیمپ ڈیویڈ نامی شرمناک معاہدے کی منسوخی کے خواہاں ہیں۔ اس کے مقابلے میں مصر کے اندر اور باہر ایسے ہاتھہ بھی کارفرما ہیں جو اس بات کے خواہاں ہیں کہ سابق حکومت کے باقی بچے عناصر کو درکنار کئے جانے سے روکا جائے۔ انتخابی مہم کے دوران بھی اقتدار میں موجود عناصر نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ حسنی مبارک دور کے آخری وزیر اعظم احمد شفیق کو انتخابی دوڑ سے باہر نہ ہونے دیا جائے۔ یہ سب واقعات ایسی حالت میں رونما ہوئے ہیں کہ مغرب اور سعودی عرب و قطر جیسے علاقے کےبعض عرب ملکوں سے وابستہ حلقے، مغرب نواز قوم پرست امیدواروں کے حق میں ووٹ اکٹّھا کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔ سیاسی مبصرین یہ باور کرتے ہیں کہ مصر کے صدارتی انتخابت کا نتیجہ مغرب کیلئے اس حد تک اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے کمال الجنزوری سے برطانیہ کا دورہ کرنے تک کی خواہش کردی اسلئے کہ الجنزوری ایک ایسے آلۂ کار ہیں جو نہ صرف حسنی مبارک کی نظر میں قابل اعتماد تھے بلکہ وہ مصر کی اعلی فوجی کونسل کے سربراہ طنطاوی کے ساتھہ گہرے تعلقات رکھتے ہیں جبکہ وہ مغرب میں ایک مقبول شخصیت ہیں ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ برطانوی حکام الجنزوری کے ذریعے طنطاوی کو انتخابات کے حوالے سےاپنی کچھہ صلاح دینا چاہتے تھے ۔ اس وقت مصر میں انتخابات کے منتظم کی حیثیت سے فوجیوں کی اعلی کونسل، نہ صرف یہ کہ تمام وسائل و سہولیات کی حامل ہے بلکہ انتخابات کے عمل کی نگراں بھی ہے ۔ اس مسئلے کے پیش نظر مسّلح فوجیوں کی اعلی کونسل کی نظر میں قابل اعتماد وزیر اعظم کی حیثیت سے الجنزوری کا دورۂ لندن ایک خاص مفہوم کا حامل ہے خاصطور سے ایسی صورت میں کہ مغرب نے مصر کے قوم پرست صدارتی امیدوار کی حیثیت سے عمروموسی کی کامیابی پر سرمایہ کاری کی ہے اور اسے امید ہے کہ عمروموسی کی کامیابی کی صورت میں مصر میں ماضی کی مانند مغرب کی مداخلت کی راہ ہموار ہوجائیگی ۔....../169